پھول روشن تھے بہت آگ بھڑکتا بَن تھا
علی اکبر ناطق
پھول روشن تھے بہت آگ بھڑکتا بَن تھا
چاند حاسد تھا ترا داغ لگا آنگن تھا
شام پھیلی تھی درختوں پہ اُترتے تھے خواب
اِک مسافر کی تھکن کو شبِ اسود تَن تھا
پھونک دیتا تھا فلک اور زمیں اِک شب میں
کوئی دن تھے کہ مرا نام خدا ئے کُن تھا
تصویروں کا باغ