پھول پری جب اُ ڑ جائے گی پھر مانگیں گے خوشبو لوگ
علی اکبر ناطق
پھول پری جب اُ ڑ جائے گی پھر مانگیں گے خوشبو لوگ
وحشی نافہ گراں نہ رہے تو ڈھونڈنے بھاگے ہر سُو لوگ
چھُونے چلے ہو دنیا کو تم، اِک سایا ہے ہاتھ نہ آئے
جادو ہے یہ نیل کی پُڑیا، ہم جادو اور جادو لوگ
پھیر اُلٹ ہے چرخِ جہاں کا، ساتھ نبھائے کس کا جگر
خون پیا ہے جس نے ہمارا، پی گئے اُس کے آنسو لوگ
بھاگ سکے تو بھاگ لے منوا ناخنوں والی بستی سے
کیسے نبھے گی اِس جنگل میں، یہ چیتے، ہم آہولوگ
ہم کہ غزالاں شہرِ اَماںکا رستا پوچھتے پھرتے ہیں
صحنِ حرم کو روک کے بیٹھے نجد کے سگ اور بدو لوگ
سبز بستیوں کے غزال