← تحریروں کی فہرست
شاعری

پیاسوں کی نذر

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

مرے ہم جبین نمازیو
مرے دل گداز مسافرو
ذرا چشمِ نم کو اُجال لو
ذرا دیدہ تر کو سنبھال لو
یہی نینوا کی بہشت ہے
یہاں عرشِ پاک کی خشت ہے
یہی دو نشیبوں کا بَین ہے
رُکو اب یہ دشتِ حسینؑ ہے
یہاں گریہ واجب ہے دوستو
کرو چاک سب گریبان کو
یہاں سب عماموں کو کھول دو
یہی ریت ہے جہاں پھول تھے
کہ جو شام تک سبھی دھول تھے
یہی جا ہے جس جا وفاؤں نے
کٹے بازوؤں کے خداؤں نے
نہ فراتِ جاں سے بچایا کچھ
نہ ہی مشکِ دل میں چھپایا کچھ
یہی نہر ہے جہاں خیمے تھے
یہیں خیمے تھے جو اُٹھا دیے
یہ وہ دشت ہے کہ حسینؑ نے
جہاں لعل اپنے لٹا دیے
یہی آب ہے وہ مسافرو
جو رواں ہے نذرِ حسینؑ میں
یہاں مشکیں آنکھ کی بھر چلو
اِنہی پانیوں سے وضو کرو
جو سکینہ، اصغر نہ پی سکے
اِنہی ریتیوں پہ جبیں دھرو
جہاں فاطمہ کے جگر پڑے
رُکو یہ وہ شہرِ امام ہے
جہاں انبیا کا قیام ہے
یہی اصل کعبہ مطاف ہے
یہاں صبح و شام طواف ہے
مرے ہم مزاج موذنوں
مرے شاعرو، مرے مومنو

مارچ کے پھول