← تحریروں کی فہرست
شاعری

چاند کی شاخیں

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

کس نے چاند کی شاخیں کاٹیںتنہا ئی کے آرے سے
کس نے سورج کا پھل توڑا گوپیا مار اشارے سے
کس نے رات کو محل بنایا چاندنی بھر کے گارے سے
کون تھا پیاسا دوپہروں میں دُھوپ کاپانی پینے والا
صبح کی آنکھ میں جینے والا
اُلٹی سوچ کا پالا
شاعر کلغی والا
رام کرے جب ناری نکلے اِک مورت کے مندر سے
رام کرے جب تارا جھانکے کچے من کے اندر سے
رام کرے جب گھنٹی باجے سیتا روپ کی زوروں سے
رام کرے جب دیوا جاگے لمسِ کنول کی پوروں سے
شاعر دل کی ناف پہ رکھ کر نوک قلم کی پھیرے گا
ناگ پھنی کی دیوداسی کو گنگا جلوں میں گھیرے گا
گنگا جلوں میں تیرتے دِیوے تہہ میں کرنیں بو دیں گے
دیکھ بھنور میں ڈوبتا سورج گہرے پانی رو دیں گے
توبہ توبہ کرتے مانجھی کشتی آپ ڈبو دیں گے
چوڑے بجرے ڈھونڈنے نکلے اپنے تختے کھو دیں گے
کوئی ستارہ ڈُبکی مار کے پہلی سانس اُچھالے گا
کوئی نظر کی تہہ میں بیٹھا موتی لعل اُٹھالے گا
کوئی پرندہ سونے پروں کا چاندی رُوپ اُڑالے گا
شاعر بہتے آب پہ چلتاتالی آپ بجا لے گا
موج میں پائوں ڈالے گا
رقص کو لہر بنالے گا

مارچ کے پھول