← تحریروں کی فہرست
شاعری

چاہ سے اور غار سے ہو کر

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

چاہ سے اور غار سے ہو کر
تارا اُترا ہے تار سے ہو کر

عارضِ گل کو بانکپن دینے
رنگ گزرے ہیں خار سے ہو کر

سر نہ آساں صلیب پر اُبھرا
آگے نکلا قطار سے ہو کر

کانچ کی راہ تو گلی تک تھی
در پہ پہنچے ہیں دار سے ہو کر

آپ کے دل میں سینکڑوں صحرا
ہم بھی آئے غبار سے ہو کر

سبز بستیوں کے غزال