چھتری کو رکھا کرتے ہیں کوٹھے سے لگا کر
علی اکبر ناطق
چھتری کو رکھا کرتے ہیں کوٹھے سے لگا کر
بے فکر نہ ہو جائیں کبوتر کو اُڑا کر
پھولوں کی بشارت پہ ہنسی آنکھ کی شبنم
مہکا ہے سحاب آج مری خا ک پہ آ کر
گائوں میں چلے آؤ بھریں روح میں سبزہ
بہتی ہوئی ندیا سے ہرے کھیت میں جا کر
بے وجہ مرے باغ میں آنے کی سزا ہے
آنکھوں پہ تری ماروں گُل و رنگ اُٹھا کر
ڈرتے بھی نہیں رات کی تاریک ہوا میں
پھرتے ہو بھرے شہر میں دو چاند اُٹھا کر
رونق ہے بہت آپ کے ہونٹوں پہ شفق کی
آئے ہو مئے ناب کو کیا آگ لگا کر
تصویروں کا باغ