← Back to writings
Poetry

رات بھر جلتا رہا صبح بجھا ہے کوئی

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

رات بھر جلتا رہا صبح بجھا ہے کوئی
داغِ دل ہے کہ ستارہ یا دِیا ہے کوئی

کھول کر دیکھ ذرا خواب سرا کے پردے
تیرے دالان کے بُرجوں سے بندھا ہے کوئی

شہر میں ایک بگولے کی طرح آیا تھا
سر پھرا خاک میں بے طَورپڑا ہے کوئی

خوں رگیں توڑ کے برسا ہے شفق کے دل سے
آج خورشید سرِ شام کٹا ہے کوئی

جس بُتِ نور کے ٹکڑے ہیں سرِ دشت چراغ
بزمِ توحید کا، سنتے ہیں خدا ہے کوئی

تصویروں کا باغ