رات بھر جلتا رہا صبح بجھا ہے کوئی
علی اکبر ناطق
رات بھر جلتا رہا صبح بجھا ہے کوئی
داغِ دل ہے کہ ستارہ یا دِیا ہے کوئی
کھول کر دیکھ ذرا خواب سرا کے پردے
تیرے دالان کے بُرجوں سے بندھا ہے کوئی
شہر میں ایک بگولے کی طرح آیا تھا
سر پھرا خاک میں بے طَورپڑا ہے کوئی
خوں رگیں توڑ کے برسا ہے شفق کے دل سے
آج خورشید سرِ شام کٹا ہے کوئی
جس بُتِ نور کے ٹکڑے ہیں سرِ دشت چراغ
بزمِ توحید کا، سنتے ہیں خدا ہے کوئی
تصویروں کا باغ