← Back to writings
Poetry

دُھوپ کے پانی میں ڈوبا پالا پوسا چھاؤں کا

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

دُھوپ کے پانی میں ڈوبا پالا پوسا چھاؤں کا
شہر کی سڑکوں پہ بھٹکا ایک لڑکا گائوں کا

جس کنارے آگ کم تھی اُس کنارےآپ تھے
ہم سے پوچھیں سُرخ انگاروں پہ چلنا پاؤں کا

میری چھتری کا کبوتر اُڑ گیا سر حد کے پار
بام چُھوکر آئے گا وہ بنگلہ فاضل گائوں کا

کس کےخنجر نے کیا گُل رنگ میرے جسم کو
جاتے جاتے پوچھ لیتے قصہ گہرے گھاؤں کا

تصویروں کا باغ