ہم اہلِ ہنر جب بھی خریدار میں آئے
علی اکبر ناطق
ہم اہلِ ہنر جب بھی خریدار میں آئے
دل قینچیوں سے کاٹ کے بازار میں لائے
حاسد نے جلی چشم سے ہر دل کو کیا راکھ
سینے کی بھری آگ سے سب خواب جلائے
کھیتوں کی ہری باس سے جگنو نے بھری لَو
ہم جگنوؤں کی صورہ سے اظہار میں آئے
تُو جانتا ہے مولا مرے دل کے سبھی نقش
یہی رنگ مصفا غمِ تصویر میں لائے
تصویروں کا باغ