شام رُکی ہے غروب بادِ صبا ہے
علی اکبر ناطق
شام رُکی ہے غروب بادِ صبا ہے
زرد گلوں کا شفیق رنگ ہوا ہے
لُطف کے آداب چشم نے نہ لیے ہیں
درد یہی باغ سے لے پھول چلا ہے
آگ بھری ہے ہوا کے سینے میں کیسی
دل نےبھری سرد آہ پھر یہ جلا ہے
لوگ یہاں کےفراغ ہیں نہ وہاں کے
تُو کہ جہاں سے گیا ہے اور بسا ہے
تصویروں کا باغ