← Back to writings
Poetry

گُل سے کبھی بات ہوئی کہ نہیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

گُل سے کبھی بات ہوئی کہ نہیں
خوشبو تری ذات ہوئی کہ نہیں

سورج سے تجھے تھے ہزار گلے
تنہا بسر رات ہوئی کہ نہیں

مَیں نے ترا نام صبا سے سُنا
تُو رنگ صفات ہوئی کہ نہیں

میدان کی جنگ کے فاتح دیکھ
دہلیز پہ مات ہوئی کہ نہیں

شب ہے نہ گلی کہیں گھر نہ چراغ
اب لامکاں ذات ہوئی کہ نہیں

تصویروں کا باغ