← Back to writings
Poetry

صبا کی چلمنیں گُلوں سے روٹھنے لگیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

صبا کی چلمنیں گُلوں سے روٹھنے لگیں
ہوا کی بالکونیاں بھی ٹوٹنے لگیں

اُفق کا گھر ہے سبز تر حِنا کے باغ سے
لہو کی کونپلیں شفق سے پھوٹنے لگیں

حیات کی کلا ئی سے ہیں ٹوٹی چوڑیاں
گلابی ہاتھ والی نبضیں چھوٹنے لگیں

مَیں تارا تارا نور دے گیا زمین کو
سیاہ رات دیویاں وہ لُوٹنے لگیں

وے آنگنوں میں سوکھتی پڑی تھی ہلدیا ں
جنوبی مندروں کی ناریں کُوٹنے لگیں

جنھیں تمھارے کنگنوں نے چُھو کے زر کیا
سنہری سر کگوریاں بھی ٹوٹنے لگیں

تصویروں کا باغ