← Back to writings
Poetry

تار نظروں کے شفق خیز ہوئے ہیں ہم کو

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

تار نظروں کے شفق خیز ہوئے ہیں ہم کو
کوئی یاقوت سے چُھوتا رہا چشمِ نم کو

لمس ہاتھوں کے نہ تھے، پَر تھے کسی طائر کے
تیز رکھتے تھے بہت سینے کے زیر و بم کو

مالِ ناقص کے عوض یار دلِ سادہ آج
دے گیا خوب بدن کا زرِ خالص ہم کو

پگھلے سونے کی طرح پھیل گیا وہ خوں میں
زربکف پھول کی صورت ہوں مَیں رکھتا غم کو

آبِ خوش رنگ مری چشمِ کے صحنوں میں رواں
سیر کرتا ہے حرم کے یہ تہی زم زم کو

کام بگڑے ہوئےاُلفت کے بنائے نہ بنیں
کیا کہوں طیش میں آئے ہوئے دل برہم کو

رگِ گردن سے برابر کیا کرتے ہیں شہید
تیغ کے خون پیے آب مصفا خم کو

دشت میں پھیلی ہوئی تنگ نگاہی کے سبب
نیزے سورج کے اُچک لیں گے دلِ شبنم کو

تصویروں کا باغ