تار نظروں کے شفق خیز ہوئے ہیں ہم کو
علی اکبر ناطق
تار نظروں کے شفق خیز ہوئے ہیں ہم کو
کوئی یاقوت سے چُھوتا رہا چشمِ نم کو
لمس ہاتھوں کے نہ تھے، پَر تھے کسی طائر کے
تیز رکھتے تھے بہت سینے کے زیر و بم کو
مالِ ناقص کے عوض یار دلِ سادہ آج
دے گیا خوب بدن کا زرِ خالص ہم کو
پگھلے سونے کی طرح پھیل گیا وہ خوں میں
زربکف پھول کی صورت ہوں مَیں رکھتا غم کو
آبِ خوش رنگ مری چشمِ کے صحنوں میں رواں
سیر کرتا ہے حرم کے یہ تہی زم زم کو
کام بگڑے ہوئےاُلفت کے بنائے نہ بنیں
کیا کہوں طیش میں آئے ہوئے دل برہم کو
رگِ گردن سے برابر کیا کرتے ہیں شہید
تیغ کے خون پیے آب مصفا خم کو
دشت میں پھیلی ہوئی تنگ نگاہی کے سبب
نیزے سورج کے اُچک لیں گے دلِ شبنم کو
تصویروں کا باغ