کلیسا
علی اکبر ناطق
ایک کلیسا، جس کی بھیڑیں اُس کا رستا بھول گئیں
تنہا اک ویرانے میں وہ سرد ہوا سے ٹھٹھر گیا
کالی رات میں برف کے گالے من کا بوجھ بڑھاتے ہیں
سرد خزاں کی دھند میں لپٹے سکڑ گئے ہیں لال ستون
کھڑ کھڑ باجتے پیلے پتے دوڑتے ہیں دالانوںمیں
لمحہ لمحہ گھیر رہی ہے سانولے سایوں کی دیوار
شام ڈھلے میں پُرسا دیں گے کانپتے بوڑھے زرد چنار
ایک کلیسا، جلی نہ جس میں چھ صدیوں سے اک قندیل
خواب ہوئے بپتسما والے اور یوحنّا کی انجیل
دیواروں کو توڑ کے نکلے لمبی داڑھیوں والے پیڑ
خشک صلیبوں پر لٹکی ہے وقت کی ٹھنڈی کہنہ لاش
ٹوٹ گئیں سب کڑیاں چھت کی، بکھر گئے فانوسی ہار
صبح کی گھنٹی کھانس رہی ہے نیند میں شاموں کے ناقوس
ایک اُداس کلیسا جس کو گھیر لیا اندھیاروں نے
کوئی حواری آگ جلانے اب نہ یہاں پر آئے گا
مریم گود میں نور لیے پھر کس کا رستہ دیکھتی ہے ؟
یاقوت کے ورق