← تحریروں کی فہرست
شاعری

کنویں کی بالیاں

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

مَیں دُور بیٹھا دیکھتا تھا ٹاہلیوں کی اوٹ سے
کنویں پہ آ کے کھینچتی تھیں لمبی ڈوریاں سنہری ناریاں
سفید پانیوں سے بھررہی تھیں چاندی کی کٹوریاں ، سنہری ناریاں
تمام دن گزار کے ، چلا گیا اُفق کے پار آسماں کا لاڈلا
شفق کی چادروں میں چھپ گئیں تھیں کونجیں مار کے اُڈاریاں
ایالیوں کی ٹولیاں جو کچے راستوں کی گرد کی رفیق تھیں
چَرا کے ریوڑوں کو لوٹ آئیں گاؤں کے مضاف سے
خموش پنچھیوں کی ڈاریں پنکھ کھولے اُڑ گئیں سیاہ جنگلوں کی اُور میں
جوچھوٹے چھوٹے گھونسلوں میںرات بھر سوئیں گی چھپاکے ننھی جانیں ریشمی غلاف میں
خمار یوں میں ڈالتی تھیں شامیں چیت اور بیساکھ کی
لطیف اور سبز کھیتیوں کی راہ سے، حویلیوں کے آس پاس
پھیلتی تھی باس مالٹوں کے باغ کی، شریہنہ کے بُور کی
جوان اور بالیاں شڑپّے مار کھیلتی تھیں چوڑے چوڑے آنگنوں میں گولٹے چھپاکیاں
جما کے بیٹھتی تھیں برگدوں کی چھاؤں میں کنواری ٹولیاں ، جہیزکاتنے کے واسطے
میں دُور بیٹھا دیکھتا رہا

بے یقین بستیوں میں