← Back to writings
Poetry

کوہوں میں سخت گام تھا باغوں میں نرم خو تھا مَیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

کوہوں میں سخت گام تھا باغوں میں نرم خو تھا مَیں
دشنہ و دل کی جنگ تھی ، دونوں میں سرخ رو تھا مَیں

تیغِ زباں نے بول کر حق سے لہو طلب کیا
کاٹا جفا کی دھار نے ورنہ صفا گلو تھا مَیں

پوچھو مری کہانیاں کیسے بکھر بکھر گئیں
دیکھو مری مصوری رنگوں کے روبرو تھا مَیں

سر نہ کٹا تھا جب تلک جنگ مری بھی دیکھتے
تیغ گلے کا ہار تھی جسم لہو لہو تھا مَیں

شام کہاں تلک چلی صبح کہاں طلوع ہوئی
مجھ کو ذرا ذرا کا غم علقمہ آب جُو تھا مَیں

کرب و بلا کی راہ سے پہنچا عدم کے دشت میں
چشمِ رواں کے نور سے دیکھ لو باوضو تھا مَیں

تصویروں کا باغ