جسے ملے ہوں فاصلے جسے نصیب ہجرتیں
علی اکبر ناطق
جسے ملے ہوں فاصلے جسے نصیب ہجرتیں
وہ کیوں نہ راہ میں رہے وہ کیوں نہ بھولے صورتیں
خدا کی خلق مر گئی مگر جو اہلِ دین تھے
پڑھے گئے وہ آیتیں کیے گئے عبادتیں
یہ کس کی آگ کاٹ کر چراغ شہر میں جلے
یہ کس کے خوں کے رنگ سے بھری ہیں مئے کی بوتلیں
بیا وہ پھول جھڑ گئے جو پچھلے چیت میں کھلے
نئی بہار میں نئے گُلوں سے کیوں شکایتیں
یہاں پہ ایک پیڑ تھا، یہاں پہ ایک گھر بھی تھا
یہ دھوپ پہلے چھاؤں تھی، یہ بھوت گھر کی رونقیں
وہ شخص جانتے ہو تم پھٹی قبا میں خاک پر
یہ شعر کا خدا بھی تھا، لکھیں ہزاروں ناولیں
تصویروں کا باغ