← Back to writings
Poetry

جسے ملے ہوں فاصلے جسے نصیب ہجرتیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

جسے ملے ہوں فاصلے جسے نصیب ہجرتیں
وہ کیوں نہ راہ میں رہے وہ کیوں نہ بھولے صورتیں

خدا کی خلق مر گئی مگر جو اہلِ دین تھے
پڑھے گئے وہ آیتیں کیے گئے عبادتیں

یہ کس کی آگ کاٹ کر چراغ شہر میں جلے
یہ کس کے خوں کے رنگ سے بھری ہیں مئے کی بوتلیں

بیا وہ پھول جھڑ گئے جو پچھلے چیت میں کھلے
نئی بہار میں نئے گُلوں سے کیوں شکایتیں

یہاں پہ ایک پیڑ تھا، یہاں پہ ایک گھر بھی تھا
یہ دھوپ پہلے چھاؤں تھی، یہ بھوت گھر کی رونقیں

وہ شخص جانتے ہو تم پھٹی قبا میں خاک پر
یہ شعر کا خدا بھی تھا، لکھیں ہزاروں ناولیں

تصویروں کا باغ