آنکھیں نمک بھری ہیں آبِ دہن لگانا
علی اکبر ناطق
آنکھیں نمک بھری ہیں آبِ دہن لگانا
تُرشی میں یار تھوڑی شکر ذرا ملانا
ناطق کو رات آ کر بادِ صبا نے بولا
گل پھول پوچھتے ہیں گلزار میں بھی آنا
ترکھان تیرے صدقے گردن نہ میری ڈھلکے
اونچی صلیب رکھنا، میخیں بڑی لگانا
مَیں آب کا پرندہ مَیں پانیوں کا باسی
تم کو زمیں مبارک مجھ کو ہے ڈوب جانا
ناطق کو مَیں نے دیکھا ہر شام کی شفق میں
آنکھوں کے رنگ لے کر بادل میں جا چھپانا
تصویروں کا باغ