ہجر کی پونی کا چرخہ کاتنے کو رہ گئیں
علی اکبر ناطق
ہجر کی پونی کا چرخہ کاتنے کو رہ گئیں
چاند سی کچھ صورتیں شب کے زمانے سہہ گئیں
آپ کے رنگوں سے واقف ہم نہیں تھے دوستا
گزری صحرا سے ہوائیں شربتی، سب کہہ گئیں
شہرِ دل کے اُجڑے منظر پر نہ حیراں ہویے گا
چشم کی دو بستیاں تھیں، پانیوں میں بہہ گئیں
بزم سے شب آپ کی باتیں زمانا لے اُڑا
آپ کی آنکھیں ہمارے حافظے میں رہ گئیں
تصویروں کا باغ