← Back to writings
Poetry

ہجر کی پونی کا چرخہ کاتنے کو رہ گئیں

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

ہجر کی پونی کا چرخہ کاتنے کو رہ گئیں
چاند سی کچھ صورتیں شب کے زمانے سہہ گئیں

آپ کے رنگوں سے واقف ہم نہیں تھے دوستا
گزری صحرا سے ہوائیں شربتی، سب کہہ گئیں

شہرِ دل کے اُجڑے منظر پر نہ حیراں ہویے گا
چشم کی دو بستیاں تھیں، پانیوں میں بہہ گئیں

بزم سے شب آپ کی باتیں زمانا لے اُڑا
آپ کی آنکھیں ہمارے حافظے میں رہ گئیں

تصویروں کا باغ