یار مرے سینے سے لگ کر
علی اکبر ناطق
یار مرے سینے سے لگ کر
آگ الگ کر پھول الگ کر
آ بیٹھا ہوں مژگاں سائے
دل میں چبھی ہے سُول، الگ کر
چشم و جگر، جاں ارزاں دی ہے
لیکن دل کا مُول الگ کر
جگ سے مجھ کو تول نہ ہرگز
چاند الگ کر دُھول الگ کر
ہم سے تری پہچان رہی ہے
یاد سے اپنی بھول الگ کر
تصویروں کا باغ