یوسف کے دام چڑھ گئے، لعلِ لباں دکھائیں آپ
علی اکبر ناطق
یوسف کے دام چڑھ گئے، لعلِ لباں دکھائیں آپ
نایاب ہے یہ مال بھی بازار لے کے آئیں آپ
ناخن کے سُرخ چاندوں کو تم نے اُتار پھینکا ہے
پلکوں کے آسمان سے تارے نہ اب گرائیں آپ
قینچی سے دل کو کاٹ کے ہم نے بنائے برگ و بار
تازہ کٹے یہ پھول ہیں پھولوں پہ بیٹھ جائیں آپ
کتنے ہی سورجوں کی لَو ہم نے بھری نگاہ میں
راتیں تری سیہ نہ ہوں آنکھیں اُٹھا لے جائیں آپ
کس نے کہا ہے آپ سے کچے گھروں میں گرد ہے
محلوں کی اُڑتی خاک میں چاہیں توصحرا پائیں آپ
موسم کا حال، ہجر کا، پھولوں کا، قصہ چاند کا
سنتے رہیں خموش ہم صدیوں تلک سنائیں آپ
تصویروں کا باغ