لوگ دیکھنے لگے دل کے تازہ داغ کو
علی اکبر ناطق
لوگ دیکھنے لگے دل کے تازہ داغ کو
ایک اور گل دیا اُس نے سینۂ باغ کو
بلبلوں کو کیا خبر سوکھی ٹہنیوں کے غم
اُجڑے پیپلوں کی ہے آشنائی زاغ کو
زندگی گزار دی چُپ کی آگ میں تمام
کون جان پائے گا پھول کے دماغ کو
تیری آنکھ ہی کے بس راستے نہ مل سکے
نیلے پانیوں کے ہم پا گئے سراغ کو
سرد ہو گئے بہت ساقیا ہمارے لب
دھوپ میں ذرا سا رکھ آگ کے ایاغ کو
تصویروں کا باغ