← Back to writings
Poetry

لوگ دیکھنے لگے دل کے تازہ داغ کو

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

لوگ دیکھنے لگے دل کے تازہ داغ کو
ایک اور گل دیا اُس نے سینۂ باغ کو

بلبلوں کو کیا خبر سوکھی ٹہنیوں کے غم
اُجڑے پیپلوں کی ہے آشنائی زاغ کو

زندگی گزار دی چُپ کی آگ میں تمام
کون جان پائے گا پھول کے دماغ کو

تیری آنکھ ہی کے بس راستے نہ مل سکے
نیلے پانیوں کے ہم پا گئے سراغ کو

سرد ہو گئے بہت ساقیا ہمارے لب
دھوپ میں ذرا سا رکھ آگ کے ایاغ کو

تصویروں کا باغ