برگ و گل ترک کیے آگ اُٹھا لی مَیں نے
علی اکبر ناطق
برگ و گل ترک کیے آگ اُٹھا لی مَیں نے
دل کوئی چیز تھی سینے سے لگا لی مَیں نے
اپنی بستی میں پلٹ کر مَیں کہاں سے آتا
راہ ڈوبے ہوئے سورج میں بنا لی مَیں نے
اہلِ دنیا پہ نہ ظاہر کی محبت کی تپش
آگ زیادہ تھی پَہ سینے میں سما لی مَیں نے
شُعلگی اتنی اُتر آئی نظر میں کیونکر
کاسنی کیا ترے آنچل کی چُرا لی مَیں نے
ٹھنڈے پھولوں کو اُڑا لے ہی گئی بادِ شمال
ہاں مگر ایک کلی دل میں چھپا لی مَیں نے
تصویروں کا باغ