← Back to writings
Poetry

کِھلےہوئے ہیں گل چراغ دُھلے ہوئے ہیں آب و باغ

علی اکبر ناطق

Read in Urdu

کِھلےہوئے ہیں گل چراغ دُھلے ہوئے ہیں آب و باغ
یہیں کہیں ترے سراغ یہیں کہیں ہمارے داغ

پکے رسے عناب و ناب رسے بسے ہیں شیخ و شاب
کھُلا ہوا سبو سحاب اُٹھا کے آگے کر ایاغ

یہ فصلِ صبحِ روغنی یہ سبز و سرخ کاسنی
کہاں ہیں اِن سے کچھ فراغ کسے ہے شہر کا دماغ

تصویروں کا باغ