کِھلےہوئے ہیں گل چراغ دُھلے ہوئے ہیں آب و باغ
علی اکبر ناطق
کِھلےہوئے ہیں گل چراغ دُھلے ہوئے ہیں آب و باغ
یہیں کہیں ترے سراغ یہیں کہیں ہمارے داغ
پکے رسے عناب و ناب رسے بسے ہیں شیخ و شاب
کھُلا ہوا سبو سحاب اُٹھا کے آگے کر ایاغ
یہ فصلِ صبحِ روغنی یہ سبز و سرخ کاسنی
کہاں ہیں اِن سے کچھ فراغ کسے ہے شہر کا دماغ
تصویروں کا باغ