کیچو ا
علی اکبر ناطق
منزلِ احساس پر میں نے غلافِ چشم کو
رشتۂ سوزن سے جوڑا آئنے کے روبرو
رفتہ رفتہ روز و شب کا سلسلہ جاتا رہا
خانۂ حاسد میں قید ارض و سما کے زاویے
کوئلے کی زد میں لوحِ فکر کے سب دائرے
اولیں زینے پہ جس کے بام و در بے نُور تھے
اژدہے کی سانس شاملِ جسم کی انگڑائی میں
تیرگی در آئی ہے اب روح کی تنہائی میں
ایسی تنہائی جہاں پر رینگتی ہے زندگی
دلدلی مٹی پہ جیسے کیچوؤں کا اِک ہجوم
کھا کے بدبودار کیچڑ پیٹ جِن کے بھر گئے
دل بھی مٹی، خون بھی احساس بھی اور فکر بھی
آدمی ہوں میں، مجھے کس نے کہا ہے کیچوا؟
بے یقین بستیوں میں