← تحریروں کی فہرست
شاعری

گرچہ چالاک ہیں، ہشیار نہیں رہتے ہیں

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

گرچہ چالاک ہیں، ہشیار نہیں رہتے ہیں
رُخ کے سادہ سے یہ پُرکار نہیں رہتے ہیں

بے طرح شام و سحر شمس و قمر کی صورت
تیری گردش کے سفردار نہیں رہتے ہیں

دُھوپ کے رنگ ہیں پردیس کی گلیوں میں سیاہ
چہرے سرداروں کے گلنار نہیں رہتے ہیں

بے وطن شام ڈھلے شاخ کے پہلو سے لگے
سُرمئی وقت میں بےدار نہیں رہتے ہیں

کوئی آواز، نہ سایا، نہ کہیں نقشِ عزیز
بے صدا ایسے بھی گھر دار نہیں رہتے ہیں

ہم نے شہتوت کے باغوں سے چُرائی گوہلیں
فصلِ سر سبز میں بے بار نہیں رہتے ہیں

ہو کے زنجیر درِ یار کی کھٹکیں گے اسیر
تیرے وحشی سرِ بازار نہیں رہتے ہیں

سبز بستیوں کے غزال