← تحریروں کی فہرست
شاعری

ہزیمت

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

تیز ہے میری سواری اور چابک سخت ہے
خون کی گردش رگوں میں اُس سے بڑھ کر تیز ہے
توڑ دوں گا ریگزاروں کی ہوائوں کا گھمنڈ
باندھ دوں گا سنگِ کہنہ سے مَیں خیمے کے طناب
برگِ لالہ، ریگِ صحرا، راستے کی جھاڑیاں
جن کا واحد رزق شبنم کا مصفّا آب ہے
اُن کے ریشوں سے نکالوں گا میں آبِ زندگی
اور پتھر کے جگر سے کھینچ لوں گا روشنی
بس کہ میں نے ڈال دی اپنی سواری راہ پر
سوچ لیکن سب مری وہ خواب کے عالم کی تھی
ریگزاروں کی ہوائیں ہر طرف سے دفعتاً
اژدہا رفتار سے اور آندھیوں کے روپ میں
ریت کے ٹیلے اُٹھا کر میرے سر پر آگئیں
دفن کرکے رکھ دیا مجھ کو مرے خیمے سمیت
بعد اُس کے مر گئی میری سواری خود بخود
اور صحرا کی ہوائیں راستی پر آگئیں
ایک پل میں پھر وہاں پر خامشی سی چھاگئی

بے یقین بستیوں میں