یہ دھرتی اُن تاروں کی
علی اکبر ناطق
یہ دھرتی اُن تاروں کی جو کالی رُت میں جاگے ہیں
تُونبا تُونبا لاٹ جلا کر صبح کے بھاگ نکھارے ہیں
دل کا چاند جگر کی سِل پر پیِِسا پیسنے والوں نے
رتی رتی رزق بہایا دو پَڑ گھومتے گالوں نے
خشک لبوں کا عرق نچوڑا دریا بانٹنے والوں نے
سرد ہوا سے سینہ تاپا تپتے دنوں کے پالوں نے
سرکنڈوں سے مُنجھ اُدھیڑی بان بنانے والوں نے
محنت کات کے نور بنایا آگ جلانے والوں نے
سوچو عرق بہانے والو کِن مٹکوں سے سوچو گے؟
تیز کدال چلانے والے ہاتھ میں کتنے جام رہے؟
یہ دھرتی اُن تاروں کی ہے جن کے ماتھے چوڑی دار
ہر چوڑی میں بھید چھپا ہے اونچے بُرج بنانے کا
اُونچے بُرج بنانے والے زندہ گرد غباروں میں
پربت دن سے رات کنویں تک سورج ہانکنے والے لوگ
زرد زمیں کے اہراموں کی ریتی پھانکنے والے لوگ
یہ دھرتی اُن تاروں کی ہے جن کے ماتھے چوڑی دار
سُرمنڈل کا راجہ