اُترے فلک کی سُولی سے کوئی مسیحا فرد پھول
علی اکبر ناطق
اُترے فلک کی سُولی سے کوئی مسیحا فرد پھول
دھرتی کے چاروں اَور پھیلے ہیں غموں کے درد پھول
آؤ تمھیں دکھلائوں مَیں گاؤں کی غمگیں لڑکیاں
لاہور سے کچھ دُور ہیں تر آنچلوں کے زرد پھول
نیلی رُتوں نے باندھ دیں برفوں میں سانسیں باغ کی
پتے ہوا نے کھا لیے ٹھٹھرے پڑے ہیں سرد پھول
ساون نہیں برسا ہماری بستی میں پھر اِس برس
آپس میں لپٹے رہ گئے میرے صحن کے گَرد پھول
جتنا ہُوا اِن آنکھوں نے گُل باغ کو پانی دیا
دو چار کلیاں دُھل گئیں دو چار نکھرے زرد پھول
تصویروں کا باغ