← تحریروں کی فہرست
شاعری

اک شام اُٹھا لے لالی سُرخی، نہ اُٹھے تو بول

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اک شام اُٹھا لے لالی سُرخی، نہ اُٹھے تو بول
دو زعفرانی رنگوں میں تُو ایک یاقوتی گھول

جس پیڑ سے ہم نے تُوت جھاڑے، بھری اِک چنگیر
اُس کی خنک مٹی چوم اُس پر ہرے پانی کھول

بستی بہت ہے معصوم، قصبہ بہت ہے چالاک
بستی کے بھاری ہیں باٹ، قصبے کے ہلکے ہیں تول

آنکھوں کا پانی ہے شور سارا جگر تیرا لال
دل کی زمیں سبز و سُرخ ہے، مت نمک اِس میں رول

زرد سنہرے دو پھول روشن چمکتے دو چاند
دو پھول دن کے چوکور دو چاند شب کے ہیں گول

بے نور آتے ہیں لوگ بے نور جاتے ہیں لوگ
منظر مرے سارے لال لے لو دو آنکھوں کے مول

تصویروں کا باغ