اگر صلیب سرپھروںکے سَر سنبھالتی رہے
علی اکبر ناطق
اگر صلیب سرپھروںکے سَر سنبھالتی رہے
جنوں کی آگ روشنی کی رسم ڈالتی رہے
مَیں قتل ہو گیا اگر گلاب بیچتے ہوئے
صبا کو میرا حکم ہے گلوں کو پالتی رہے
کسی شہید نے فلک کو سیریاب کر دیا
کہ خوں اُفق کے بام سے شفق اُچھالتی رہے
شبوں کے کہنہ لُطف نے مرے ظروف بھر دیے
بَلا سے اب خدا کی چشم دن بحالتی رہے
وہ گرد جو دِلوں میں تھی، نہ آیتوں سے دُھل سکی
دُھواں نہ ابر بن سکا، ہوا اُجالتی رہے
سبز بستیوں کے غزال