← تحریروں کی فہرست
شاعری

اگر ہوا چلی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اگر ہوا چلی
اگر وہ تیز رُو چلی
اگر ہوا کی سمت دوسری ہوئی
اگر وہ نا خدا کے اِختیار سے نکل گئی
اگرسمندروں کے پُروقار رہوار لے اُڑی
اگرتہوں کے کُہنہ سال بوڑھے پانیوں سے لڑ پڑی
اگرخدا ئے عدل کے مصفّا آئینوں کو دُھندلاگئی
اگر ہوا شمال کے طواف سے چلی
اگر وہ تیغِ سر د ہاتھ میں اُٹھا کے گھومنے لگی
اگر ہوا نے کاٹ دیں چراغ کی لَویں
اگر لَووں کی روشنی سے تیرگی کے خوانچے بھر دیے
اگر ہوا نے چاندنی کے بادباں اُلٹ دیے
اگر صبا کے راستوں پہ سرکشی کے گرد باد رکھ دیے
اگر ہوا نے آسماں کے فیصلے بدل دیے
تو اے دِلوں کی رسیوں کو باندھ دینے والی دیویو
کہاں تلک بندھی رہیں گی بے یقیںدِلوں کی رسیاں
کہاں تلک بغل کی خورجین سے نکالتی رہو گی راز کی کرامتیں
اگر ہوا چلی
اگر ہوا نے فرصتیں نہ دیں

سُرمنڈل کا راجہ