باجرے والیاں
علی اکبر ناطق
شیشموں کی قطاروں کا سایا لیے
چھن چھنا چھن چلیں باجرے والیاں
کیسی چالاک ہیں باجرے والیاں
کھیت کے کھیت چُگنے لگیں دَم بہ دَم
پھڑ پھڑاتی، پُھدکتی، ہوئی لالیاں
پاپلر کی لچکتی ہوئی لاگریں
چھر چھرا کر اُڑانے لگیں بالیاں
کیسی چالاک ہیں باجرے والیاں
سازِ پازیب سے، رقصِ آواز سے
بے خبر نورِ لب، چشمِ کم باز سے
سیدھی راہوں کا میں اک مسافر مگر
روکتی ہیں مجھے باجرے والیاں
کیسی چالاک ہیں باجرے والیاں
یاقوت کے ورق