بہار آئی ہے مگرشفق کے پھول باغ کو نہیں دئیے گئے
علی اکبر ناطق
بہار آئی ہے مگرشفق کے پھول باغ کو نہیں دئیے گئے
ہمارے باغباں ہمارا خوں خزاں کے دن ہوا کو بیچ آئے ہیں
ہماری بستیوں میں دُھند اور سرد موسموں کے راج ہیں
ہمارے پیڑ سر بلند ہیں مگر خزاں میں رنگ لائے ہیں
ہماری دن سے گفتگو رہی ہمیں سیاہ رات نے چھوا نہیں
ہمارے گھر میں چاندنی کے پھول چودھویں کی رات آئے ہیں
جو پربتوں کے راز تھے وہ راز پربتوں میں دب کے رہ گئے
بلند کلغیوں کے کوہ دُور ہی گئے نہ پاس آئے ہیں
تصویروں کا باغ