← تحریروں کی فہرست
شاعری

تھم جا غمِ دل

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

تھم جا غمِ دل اب تو کہیں رُک جا غمِ دل
بھٹکے ہوئے آرام کو ترسے ہیں مسافر
جیسے کسی ہارے ہوئے لشکر کے پیادے
اپنوں کی عنایات کے مارے ہوئے انساں
سورج نے کبھی مہر کی ڈالی نہ نگاہیں
لگتی رہیں نیزوں کی طرح دل پہ شعاعیں
دیکھی نہیں عرصے سے کُھلے چاند کی صورت
بخشی نہیں لیلہ نے ستاروں کی پناہیں
صدیوں سے بھری آنکھ سے نکلا نہیں آنسو
مدت سے کہیں بیٹھ کے روئے نہیں اب تک
اُڑتے ہوئے ’’صحرا میں‘‘ بگولوں کی طرح ہیں
گردش میں کہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مقدّر
نغمات کی آواز، کوئی درد کی لے ہو
آباد جہانوں میں وہی دل کے قریں ہو
رونے کے لیے سایۂ دیوار تو ہوتا
کچھ لمحوں کو غم خواریٔ بیمار تو ہوتی
تھم جا غمِ دل اب تو کہیں رُک جا غمِ دل

(احمد شہزاد لالہ اور عابد خورشید کے نام)

بے یقین بستیوں میں