← تحریروں کی فہرست
شاعری

تیری بیلیں تیرے پھول

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اک چرواہے نے کاٹی ہیں تیری بیلیں تیرے پھول
تُو نے بڑھ کر چوم لی اُس کے دو قدموں کی دُھول
لمبے دنوں کی پگڈنڈی پر چرواہے کی جھول
پور پور میں اُس کے چبھی ہے بانک پنے کی سُول
سُول قبیلے والے اُس کے، کیکر اور ببوُل

دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کے ہار
دُھوپ کے سائے میں بُنتاہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آجاتا ہے پورب دیس کے پار

روغنی چاندوں کی فصلوں پر چرواہے کی آنکھیں
اورآنکھوںکی زرد شفق میں یاقوتوں کے ڈورے
کون پچھانے چرواہے کی سانس میں چلتی آگ
آگ کی لپکیں رات سمے میں صندل تن کے بھاگ
اُس پر قاتل چرواہے کی بانسریا کے راگ
جاگ نصیبوں ماری سُندری، میٹھی رُت میں جاگ
سورج تیرے شیشہ بدن پر بیٹھا بن کر ناگ

سُرمنڈل کا راجہ