نفیریاں بجانے والیاں
علی اکبر ناطق
ہمارے گائوں آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں
نفیریاں بجانے والیوں کے دائیں بائیں رقص میں بشارتیں
تریل کی شراب پی کے، سانجرے کی سُرخیوں کے ملک سے
سوار ہوکے سورجوں کی روشنی پہ آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں
ہمارے گائوں کے خراس والے چوک میں
دو بیریوں کی لاگروںکے سبز سائے
سوندھی سوندھی گاچنی سے لیپی آسنوں پہ آج پھر
چڑھیںہیںصندلی کنواریاں،نفیریاں بجانے والیاں
نفیریاں بجانے والیوں کے کان کی لوَیں گلاب کی
گلابوں کے کنارے گھومتی ہیں گول گول سی بھبھیریاں
نفیریاں بجانے والیوں کی کُرتیاں ہلال کی، غرارے نور کے
غراروں کے حصار میں کھنکتی چار چارجھانجریں
سفیدجھانجروں کے بیچ کانچ اور پارے کی شریر پنڈلیاں
ہمارے گائوں کے ہیں سادہ سادہ کاسنی سے گھر
گھروں کے زندہ آنگنوں میں آگیا نفیریوں کامیٹھا میٹھا شور
بجا رہی ہیں گائوں کی جوان بالیاں، نفیریوں کے سنگ تالیاں
ہمارے گائوں آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں
سُرمنڈل کا راجہ