جادو گروں سے سنو فسانہ
علی اکبر ناطق
جادوگروں سے سنو فسانہ، بات کریں گے چھُو منتر
چھو منتر سے آگ بنا کر دیواروںپر ماریں گے
دیواروں پر رنگ بنیں گے آگ کی تیز شبیہوں کے
رنگ شریر نفس کے جلوے آنکھوں پر لہرائیں گے
ایک گلابی شیشے میںپھر قاف پری دکھلائیں گے
چھو منتر سے تار بُنیں گے اور ہوا پر پھینکیں گے
قید کریں گے وقتِ قضا کو تار کی پتلی جالی میں
جالی بند کریں گے دل میں، صحنِ خدا میں بھیجیں گے
اور پڑھیں گے چھو منتر کا بول دوبارہ
دِ ل پھر وقت اُچھالے گا اورزرد شفق برسائے گا
تیرِ اُفق سے لال پرندہ پربت پر مروائے گا
خون ملے گاچہرے پر اور ماتمی صف بچھوائے گا
کالے دھاگے گھیر بنا کر منتر پڑھ پھونکائے گا
جادوگروں کے افسانے کو بستی چوک پھرائے گا
جادوگروں سے سنو فسانا
سُرمنڈل کا راجہ