لقے کبوتر پالنے والے
علی اکبر ناطق
لقے کبوتر کس نے پالے، جس گھر گھگرے والی نار
جس گھر اُونچے بانس کی چھتری اور چھتری کے پھُمن چار
جس کی چھت پر چاند خدا کا اور بنیرے جالی دار
کھڑے بنیروں کے کنگروں پر سُرخ لہو کی پھیلی دھار
جس گھر دودھیا رنگ کے ہیرے اور ہیروں کی ناف انار
جس گھر مال گلابی سارا، قصبہ جس کا پہریدار
لقے کبوتر پالنے والے جگ بھیتر ہیں بس دو چار
لقے کبوتر جس نے پالے، اُس کے چونترے چھن چھن باجیں
دُبلے گلے کی گانی والے گٹکوں گٹکوں بول کے بھاگیں
رات ستاروں والے دیوے لمبے دنوں کو سورج لاگیں
لمبے دنوں کی دُھوپ سنہری، دُھوپ میں مُندری والے جاگیں
لقے کبوتر پالنے والے باجرا چھڑ کے لاتے ہیں
لال کنالی آوی والی پانی سے بھرواتے ہیں
کاسنی باتھو کُوٹ کے پوچا آنگن میں پھرواتے ہیں
پھول لوَے کی توریوں والے کیوڑا بھر چھڑکاتے ہیں
گھاگھرے والی اور کبوتر رقص میں تیرتے جاتے ہیں
دیکھنے والے لوگ ندیدے آنکھوں کو سہلاتے ہیں
پتلے آب کے شیشے لے کر کوٹھوں پر آجاتے ہیں
سُرمنڈل کا راجہ