دور کا باجا
علی اکبر ناطق
دُور سنائی دیتی ہے آواز مجھے اک باجے کی
مَیں باجے کی سمت چلوں تو باجے چاروں اور
راگ بکھر کے بن جاتے ہیں سو گھنگھرو کا شور
سانس کے لمبے پروں پر اُڑ کر کوہِ نِدا تک جائوں
لیکن راہ نہ پائوں
کون پچھانے اِس باجے کو، بھید بھرا یہ ساز
بھید بھرے اِس ساز کے اندر قرنوں کی آواز
کوئی بجانے والا اِس کا عقلوں پر بے باز
ایک پُرانا راز
اُڑتے اُڑتے تھک جاتا ہوں باجا پھر بھی دُور
پربت، ٹیلے، نیل سرائیں، آکاشوں کا نور
میرے پروں کی راہ میں آیا توریتوں کا طُور
باجا پھر بھی دُور
ایک اَجل کے زرد کلسں پر باجے اِس کا راگ
راگ تلک وہ جائے ہٹیلا،جس کے جاگے بھاگ
برسوں روغنی من میں جلائے اپنے نفس کی آگ
اور سُنے پھر کن رَسیا وہ قرنوں والے راگ
زرد کلس پر باجنے والے جتنا چاہے، باج
ہم سُنیں گے آج
سُرمنڈل کا راجہ