جب ہم دریا پار کریں گے
علی اکبر ناطق
جب ہم دریا پار کریں گے
لوگ ہمارا ساتھ نہ دیں گے
ہم کشتی پر تنہا ہوں گے
کشتی لہروں کی ہم جھولی
بولنے والی موت کی بولی
مجھ سے پوچھے گی پانی کی رمزوں کو
شکل بدلتی لہروں کو،ہچکولوں کو
ہچکولوں میں گھیرنے والے نیل کُنڈل کے سانپوں کو
مجھ سے پوچھے گی کشتی اُن رازوں کو
جن کے گہرے اُلجھاوؤں میں ہم ڈوبیں گے
ہم ڈوبیں گے تیرنے والی منجدھاروں میں
غیب کا حکم سنانے والے اُن تاروں میں
جن کا سینہ پتھر ہو گااور پانی پگھلائے گا
کشتی کے خاموش غموں پرایسا بوجھ بڑھائے گا
جو موجوں کی سیرابی میں دل پر بار کرے گا
ڈوبنے والے ہم پانی کے پھیراوے میں پھر ڈوبیں گے
جب ڈوبیں گے، لوگ ہمارا ساتھ نہ دیں گے
اور دیکھیں گے
ریت پہ بنتی سُرخ رنگوں کی تصویروں کو
اور سُنیں گے لہروں کو
جو گائیں گی میٹھے سُر میں موت کا نغمہ
موت کا نغمہ چلتے پانی کے باجوں پر باجے گا
لوگ سُنیں گے موت کا باجا اور روئیں گے
نیر بہانے والا نغمہ دیر تلک رُلوائے گا
اور ہمیں بتلائے گا
دیکھو !ہم نے تم پر کتنا رویا ہے
سُرمنڈل کا راجہ