سفید کاغذ
علی اکبر ناطق
(منظر نقوی کے لیے)
سفید کاغذ پہ کیا لکھوں گا
اگر نہ بھیجیں زباں کے وارث
مہکتے لفظوں کی روشنائی
دِلوں سے واقف حروف و معنی
سفید کاغذ پہ کیوں لکھوں گا
اگر نہ پیدا ہوں شعرو نغمہ کی حدتوں کو سمجھنے والے
حسد سے خالی، شریف لہجے میں داد لفظوں کی دینے والے
وہی رفاقت کی سبز فصلوں کے معتبر اور سخی حوالے
ازل کی لَو میں کریم لوگوں کی بستیوں سے جُڑے ہوئے ہیں
کھُلی جبینوں کے یہ صحیفے اگر نہ ہوتے
تو پھر دلوں کے سیہ مناروں پہ لمحہ بھر کو اذاں نہ ہوتی
سخن وروں کو اماں نہ ملتی، قلم کی رونق، فزوں نہ ہوتی
صدائیں اہلِ ہُنر کی آخر کوئے ندامت میں بیٹھ جاتیں
یہی سبب ہے کہ ہم نہ پل بھر کو اِن کے پہلو سے دور بیٹھے
کشادہ ہاتھوں سے بانٹتے ہیں جو چوڑی مشکوں سے آبِ نعمت
خدا سلامت رکھے یہ منظر کہ یہ حوالہ عزیز تر ہے
شبوں کی رُت میں چراغِ دل ہے
کہ اس کی قربت میں آبرو ہے مسافتوں کی
غموں کے دن میں ہے اِک دلاسا
کہ اِس دلاسے میں دُکھ گھلے ہیں
نیازِ اُلفت کی بند کلیاں لُٹانے والا
بھرے تبسم میں خوشبوئوں کا جگانے والا
سدا سلامت رہے یہ منظر
سُرمنڈل کا راجہ