← تحریروں کی فہرست
شاعری

در و بامِ چمن

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

گُل سمیٹے ہوئے بیٹھے تھے قبائیں اپنی
ڈر کے مارے کبھی بازو بھی نہ پھیلاتے تھے
خار بڑھتے چلے جاتے تھے قد و قامت میں
اور نیزوں کی طرح دل کی طرف آتے تھے
باغبانوں نے بہم جوڑ کے سر، یہ سوچا
زنگ آلود تھے مدت سے تراشے جن کے
بیج اِس بار اُگے ہیں جو گُلوں کی صورت
خوش نہ آئیں گے زمانے کو لب و رخ اِن کے
ایک اک شاخ کو پیوند لگا دیں، آئو
پھول خوش رنگ سے بےخار کھلیں گے لاکھوں
اور خوشبو کا تردّد بھی نہ کرنا کوئی
عطر مِل جائیں گے صد لاکھ بدیسی ہم کو
روز چھڑکیں گے در و بامِ چمن پر جاکر
پھر تو ہر سمت سے واہ وا کی صدا آئے گی

بے یقین بستیوں میں