← تحریروں کی فہرست
شاعری

ریت کے ٹیلے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

میںنے کہا تھا آخر اک دن تھک جائیں گے
ریت کے ٹیلے کھودنے والے کب تک ٹیلے کھودیں گے
ریت ٹیلے کھودنے والے تھک جائیں گے
میں نے کہا تھا دھرتی چھیدنے والے آخر رُک جائیں گے
تیل کے چشمے ڈھونڈنے والے کب تک چشمے ڈھونڈیں گے
کب تک آگ کی مشکیں بھر کر گہرے کنوؤں سے کھینچیں گے
چہروں پر چھڑکائیں گے
دھرتی کو دہکائیں گے
آخر اک دن تھک جائیں گے
میں نے کہا تھا بھاری ضربیں تھم جائیں گی
کب تک تیشہ مارنے والے ہاتھ زمیں کو پیٹیں گے
نور کے ذرّے توڑیں گے
شعلوں کو لہرائیں گے
کب تک راکھ اُڑائیں گے
ہانپ کے اک دن بیٹھ رہیں گے
میں نے کہا تھا دیکھنا آخر مینہ برسے گا
زرد ہوا کو مانجے گا
امبر کو چمکائے گا
سبز فضا لہرائے گی
میں نے کہا تھا شور تھمے گا
زہر بجھے گاگندھک کا
لیکن میں نے جھوٹ کہا تھا
ریت کے ٹیلے کھودنے والے جنتے رہے ہیں ٹیلے کھودنے والوں کو
دیکھنا اک دن سارے ٹیلے بھڑک اُٹھیں گے
گاڑھے دھویں ابر اُٹھے گا
سانس گُھٹے گی
اور میں روتے روتے آخر تھک جاؤں گا

یاقوت کے ورق