← تحریروں کی فہرست
شاعری

زیتونوں کا باغ

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

زیتونوں کا باغ لگایا نیلمی آنکھوں والے نے
باغ میں نیلا مینہ بر سایا برکھا رُت کے کالے نے
دار کی شاخیں پھیل رہی تھیں شام کے پھیلے سائے میں
شاخ کو بوسے دے کر پالا مریم ہاتھ کے پالے نے
آگ کے سینے میں دہکائی چوب ہری مہتابی کی
اور ہوا میں چھلکائی اِک باس اَمر کے دھارے کی

پاک پروں کا پرندہ تھا وہ شاخِ فلک سے اُترا تھا
روح کے نازک اِکتارے پر درد کی آیت پڑھتا تھا
دیکھنے والے دیکھ رہے تھے باغ میں اُڑتا وہ طائر
لال اُفق سے اُترا تھا روغنی گھر میں ڈوب گیا

لیکن جن کے دل تانبا تھے کون اُنھیں پگھلاتا نور
سبز صحیفے بیچنے والے بیٹھے روشن راہوں پر
پیلی ہیکلی مُہریں دے کر حکم لیا تاریکی کا
دستِ شفا میں کیل پروئے موت کی کالی ضربوں سے
نیکی والے سر پہ سجایا تاج گنہ کے خاروں کا
آبِ حیات کو موت پلا کر آگ بجھائی سینے کی

ریشمی تانا بُننے والے بُن گئے آخر ایک صلیب
ایک گلابی رنگ فرشتہ دار دیا ہشیاروں نے
پتھر آنکھیں صاف کُھلی تھیں اور تماشا زندہ تھا

سُرمنڈل کا راجہ