← تحریروں کی فہرست
شاعری

صدیوں کا مسافر

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

مَیں، کہ صدیوں کا مسافر، مَیں ہمیشہ کا غریب
کِتنے فردوس کے وعدوں پہ جو بہلایا گیا
سُرمگیں رات میں کچھ فتنہ جمالوں کا وصال
میری منزل کا سراپا یہی بتلایا گیا

میری فطرت کا یہ خاصا تھا کہ ہشیار نہ تھی
کیسی معصوم ادائوں سے بہلتی ہی گئی
شامِ غم بھی نہ ڈھلی اور سحر بھی نہ ہوئی

جب ہُوا عمر کے مصروف سرابوں سے گزر
دُور و نزدیک مسافت میں اُٹھے ایسے غبار
جس میں فردوس کی وادی کے دبے نقش و نگار

پھر کُھلا مجھ پہ کہ کچھ میرے گناہوں کے طفیل
ایک دوزخ سے بھی حصے کا میں پائوں گا عذاب
خوشنما خواب کی تعبیر اُلٹتی ہی گئی
میری جنت کے تصور میں جہنم کا مزاج

اور آخر میں گرفتارِ بَلَا زیرِ زمیں
اپنی جنت سے مَفر اور جہنم سے الگ
ایک ڈھانچا جو فقط خوف کے سامان لیے
بے طرح خاک میں لیٹا ہوا عبرت کی زباں

بے یقین بستیوں میں