← تحریروں کی فہرست
شاعری

غلام قوم کادانشور

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

میں شاعر تھا اور داستانیں سنانے کا فن جانتاتھا
تمھیں کیا خبر ، میرے اجداد کا داستاں گوئی میں کوئی ثانی نہیں تھا
خدا جانتا ہے، زمینوں پہ گزرے مہ و سال شاہد
ہزاروں برس سے وہ شاہا نِ عرب و عجم کے نمک خوار اور نام لیوا
بتاتے تھے آقاؤں کو عدل پرور
کہ عدل اُن کا ہرگزکبھی روزِ روشن نے دیکھا نہیں
قصیدے کہے میرے اجداد نے قرن ہا قرن تک اُن فصیلوں کے اُس پار
محرابوں اور ڈاٹوں سے مانوس پھرتے ہوئے پیکروں کے
جنھیں پتھروں سے عقیدت بہت تھی
اُنھیں وہ کہانی سناتے ، کسی اعلیٰ منصب ، کئی لاکھ درہم، سنہری رپوؤں کے بدلے
وہی میرے آباء
سنو، اور میں اُن کا وارث ذہین اور لائق خبر رکھنے والا
چمکتی ہوئی تیز آنکھیں معلق فضاؤں کے باغات اور چاہِ بابل سے واقف
زمانوں سے منسوب جتنے کھنڈر ہیں، سلاطینِ رومہ و ایران کے سارے گمنام مدفن
رہے میری پوروں کی گنتی میں شامل
ہزاروں برس کے زمانوں پہ پھیلے ہوئے مُلکِ یونان کے دیوتا میرے ہمراز میرے شناسا
اساطیر ہندی مری دسترس میں
میں لائق ہنرور، کہانی سنانے کا فن جانتا تھا
مگر تم نے دیکھا مرے چار جانب فقط ماتمی ہیں
جنھیں میرے لفظوں پہ نوحوں کا شک اور گریہ کا محکم یقیں
تیز تر شورِ ماتم کسی نورِ معنی سے بیگانہ تر
اور اب میں کہانی سناتے سناتے کہانی سنانے کا فن بھول کر
بزمِ ماتم میں شامل

بے یقین بستیوں میں