← تحریروں کی فہرست
شاعری

صنوبر سا آدمی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

وہ اِک صنوبر سا آدمی تھا جو زرد موسم کے راستوں پر مجھے ملا تھا
صبا کی روشن رفاقتوں کا امیں رہا تھا
وہی جو گزری رُتوںکے سائے میں بکھرے پتوں کو چُن رہا تھا
خنک ہوائوں کی ٹھوکروں سے شکستہ شاخوںکو تھامے تھامے
جو تھک چکا تھا
وہی تھا زندہ دِنوں کا ساحر
مہکتی صبحوں کی نم ہوائوں کا چھونے والا
شبِ ہُنر کا رفیق و یاور
دِیوں کی رونق میں پلنے والا
نقوشِ لیلہٰ کی بہتی کرنیں صفائے دِل سے پرکھ پرکھ کر چُرانے والا
عمیق جذبوں سے شعرو معنی کے آئینوں میں سُبک روی سے اُترنے والا
وہ اِک صنوبر سا آدمی تھا
سفید کلیوں کے راستوں پر نفیس قدموں سے چلتے چلتے
خزاں کی وادی میں آ گیا تھا
خزاں کی وادی میں دیکھتا تھا چمکتی آنکھوں سے دُھندلے چہرے
جو شامِ فرقت کی چادروں میں چھُپے ہوئے تھے
وہ دھُندلے چہرے
جنھیں شفق کے سنہرے پنچھی کہیں اُڑا کر چلے گئے تھے
اُنہی کتابوں کے بکھرے اوراق دِل کی پلکوں سے گِن رہا تھا
ورق ورق پر لکھی حکایت مقامِ عجلت میں کہنے والا
وہ قہقہوں کی تہوں میں ڈوبے غموں کے موتی لٹانے والا
مجھے ملا وہ تو ایک شامِ اُفق کی رہ پر
جہاں سے آگے زمیں کی ر اہیں کھلی نہیں تھیں
دُعا کی ڈوریں فلک کی زینوں پہ رُک گئی تھیں
عزیزِ جاں تھا رُتوں کا زیدی، ہزار دل ہوں نثار اُس پر
خزاں کے سینے پہ آج بھی وہ گُلوں کی بھاری برات لے کر رُکا ہوا ہے
وہ اِک صنوبر سا آدمی تھا
جو زرد موسم کے راستوں پر مجھے ملا تھا
(سید عباس حیدر زیدی )

سُرمنڈل کا راجہ